Tang Gola Ganda,,,Guest Post

ترکیب تو اچھی لگ رہی ہے تخم بالنگاہ کی کی مقدار نہیں بتائی کتنا ڈالنا ہے

Afreen's kitchen

Today I am posting a Guest post winner recipe for Ramadan drinks which has been sent by my sweet blog reader Uzma Atif…..It is Tang Gola ganda recipe….Beat the heat of summer during Ramadan with this chilled treat..

#Guest post**

Tang Gola Ganda**

Ingredients

3 flavours of tang

Ice cream any flavor

Comelle as required

Tukhme-balunga

Method

Take 2tbsp of orange flavor Tang and dissolve in 1 glass of water ,keep it in freezer for 5 to 6 hours.

Take 2tbsp of pineapple flavor Tang and dissolve in 1 glass of water ,keep it in freezer for 5 to 6 hours.

Take 2tbsp of Mango flavor Tang and dissolve in 1 glass of water ,keep it in freezer for 5 to 6 hours.

Now crush all frozen tang juice.Take glasses and fill each with 1 scoop ice cream then add crushed Tang .Now pour Comelle and Tukhme-balunga .serve chilled.

View original post

Standard

ناطقہ سر بہ گریباں ہے

ناطقہ سر بہ گریباں ہے

کچھ اصحاب جو عام دنوں میں دھوبی، موچی، نائی،بڑھئی کا کام کرتے ہیں وہ مالی منفعت کی خاطر قربانی کے دنوں میں ذبیحہ کی خدمات کے لئے اپنے آپ کو پیش کردیتے ہیں اور پھر اکثر یہ منظر نظر آتا ہے کہ قربانی کی گائے کو گرا کر سات آٹھ  لوگ اس پر چڑھے ہوئے ہیں اور ابھی صاحب قربانی چھری ہاتھ میں سنبھال ہی رہا ہوتا ہے کہ گائے بپھر کر سات آٹھ لوگوں کو ادھر ادھر پھینک مارتی ہے اور کھڑی ہوتی ہے تو تماش بینوں کی دوڑیں لگ جاتی ہیں۔

یہی منظر آج کل ہمارے ذرائع ابلاغ پر کچھ یوں نظر آرہا ہے کہ جس دھوبی موچی نائی کو دیکھو ایم کیو ایم اور الطاف حسین کو گرانے اور ذبح کرکے اپنے ولی نعمت کی بارگاہ میں سرخ رو ہونے کی بے سود کوشش میں لگا ہوا ہے۔ ٹی وی چینلز ہوں یا اخبارات، اپنے ‘ریٹ’ اور ریٹنگ بڑھانے کے چکر میں ہر اس بات کی چٹنی پیسنے میں لگے ہوئے جس کا کوئی وجود ہی نہیں، سیاق و سباق سے الگ کیے گئے جملے، اور ان سے اخذ کیے گئے اپنے من پسند مطالب بلا سوچے سمجھے بغیر جانے بوجھے پاکستانی قوم کے کانوں میں انڈیل رہے ہیں۔

ایسی ہی ایک مذموم کوشش روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والی ڈاکٹر صفدر محمود کی تحریر میں بھی کی گئی ہے۔ محترم نے اپنے کالم کا آغاز ہی جھوٹ اور غلط بیانی سے کیا، لکھتے ہیں : الطاف بھائی نہ ہمیں اپنانے کو تیار ہیں نہ ہمارا بننے کو تیار ہیں۔ یہ ایک ایسا جھوٹ ہے جسے لکھتے ہوئے  قلم بھی کئی بار لڑکھڑا گیا ہوگا۔ مہاجر قوی موومنٹ سے شروع ہونے والی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ میں تبدیل ہوجاتی ہے، پاکستان کے چاروں صوبوں میں اس کی تنظیم سازی کی جاتی ہے، اس کے عہدیداروں، ذمہ داروں، یہاں تک کہ منتخب نمائندوں، صوبائی اسمبلی، قومی اسمبلی اور ایوان بالا کے ارکان تک میں دیگر قومیتوں کے لوگ فخر سے ایم کیو ایم کی نمائندگی کررہے ہیں، مگر کیا کیا جائے اس تعصب و جہالت کا جسے یہ سب نظر نہیں آتا۔

آگے فرماتے ہیں : ‘‘الطاف بھائی کی تعریف کے مطابق میں مہاجر نہیں تھا’’ حضور آپ سے کس نے کہہ دیا کہ مہاجر کی کوئی تعریف الطاف بھائی نے اپنے نام سے پیٹنٹ کرائی ہے، آپ کے علم میں بخوبی ہے کہ مہاجر کا لفظ تقسیم ہند کے وقت کیوں اور کن لوگوں کے لئے استعمال کیا گیا، الطاف بھائی کو اس کا موجد قرار دینا اپنے اجداد کی سرزمین سے ہجرت کرنے والوں کے ساتھ بہت بڑی ناانصافی ہے۔

الطاف بھائی کی سیاسی مجبوری کا تجزیہ بعد میں کرنے کا وعدہ فرما کر موصوف رقم طراز ہیں : ‘‘میں کتابی بندہ ہوں اور کتابی بات لکھتا ہوں۔’’ جناب ہم عرض کریں گے کہ زندگی کی حقیقتیں کتابوں میں لکھی باتوں سے مختلف ہوتی ہیں اور تاریخ نویس وہی کچھ لکھتے ہیں جو بادشاہ وقت کی طبیعت پر گراں نہ گزرے۔ الطاف بھائی اگر آپ کی تحریروں کے حوالے دیتے رہے تو اس سے ان کے مطالعے کی وسعت کا اندازہ کیا جسکتا ہے اور وہ یہ کہ اپنی تحقیق کے لئے وہ کسی ادنیٰ سے ادنیٰ تحریر پر بھی نظر رکھتے ہیں۔ درحقیقت آپ کو ان کا شکرگزار ہونا چاہیئے تھا کہ انہوں نے آپ کی تحریر کا حوالہ دے کر اسے ثقاہت بخش دی ورنہ !!!

الطاف بھائی کے دورہ ہندوستاں اور وہاں پر کی جانے والی تقریر پر سیاق و سباق سے علاحدہ ایک جملہ اٹھا کر اپنی چرب بیانی کا سہارا لیتے ہوئے حضرت نے جو لاف وگزاف تحریر کی ہے اس کے جواب میں بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے لیکن ان کی بزرگی کو دیکھتے ہوئے یہاں صرف ریکارڈ کی درستی کے لئے یہ کہیں گے کہ الطاف حسین نے نہ اس وقت نہ اس کے بعد کبھی، پاکستان کے خلاف کام کرنے کا کوئی دعویٰ یا اعلان نہیں کیا، یہ سب کچھ آپ کے اپنے اندر کا تعصب، گندگی اور خوف ہے۔ منافقت اور حقائق سے روگردانی کا عالم یہ ہے کہ مولانا حسین احمد مدنی اور آزاد کا حوالہ دیتے ہوئے موصوف کو جماعت اسلامی کے سربراہ مولانا مودودی یاد نہیں آتے پاکستان کی مخالفت میں جن کی تحاریر و تقاریر موجود ہیں، پاکستان کی شہریت حاصل کرنے کے بعد بھی جنہوں نے اپنے نظریات سے رجوع  کرنے سے انکار کردیا۔ اس معاملے میں ان کی پاکستانیت کو سانپ کیوں سونگھ جاتا ہے سمجھ سے بالاتر ہے۔

پاکستان کے ظرف کا ذکر یوں فرماتے ہیں ‘‘اس ظرف میں احرار، خاکسار، پختون زلمے اور پختونستان کے علمبردار اور جئے سندھ سب سما گئے، ’’ ملاحظہ فرمایئے، جہاں اپنی گوٹ دب رہی تھی اس کا ذکر گول کر دیا۔ کیوں صاحب بنگالیوں کو آپ بھول گئے، کیا وہ پاکستانی نہیں تھے یا آپ کا ظرف اتنا نہ تھا کہ وہ بھی اس میں سما سکتے۔

شیخ مجیب الرحمان کے انجام سے عبرت دلانے کی کوشش کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب بھول جاتے ہیں کہ اسی ملک پاکستان کے ایک درویش صفت وزیراعظم لیاقت علی خان کا کیا حال ہوا، قائد اعظم کی ہمشیرہ بھارتی ایجنٹ قرار دی گئیں اور پراسرار انداز میں موت کا شکار ہوگئیں۔

تحریر میں آگے چل کر پھر نکتہ طرازی فرماتے ہیں ‘‘مہاجر اور مقامی ایک قوم بن چکے، پھر الطاف بھائی اس نعرے پر کیوں بضد ہیں؟’’ جناب اس نعرے پر الطاف بھائی نہیں آپ بضد ہیں کیوں کہ آپ خود آج تک ایک قوم نہیں بنے، پاکستانی نہیں بنے بلکہ پنجابی، سندھی، بلوچ، اور پٹھان میں تقسیم ہیں۔ آپ صرف سندھ میں کوٹہ سسٹم نافذ کر کے اس نعرے کو قوت بخش رہے ہو، آپ آئینی و قانونی حق سلب کرکے اس ملک کی خاطر قربانیاں دینے والوں کو دوسرے اور تیسرے درجے کا شہری بننے پر مجبور کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب موصوف کالم کے آخر میں ایک بار پھر قارئین کو کسی شعبدہ باز کی طرح جو ہاتھ کی صفائی کے ذریعے مجمع کو بیوقوف بناتا ہے کسی گورے کی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے ایم کیوایم پر قومی دھارے میں شامل نہ ہونے کا الزام لگاتے ہیں جبکہ حقیقت حال اس کے قطعی برعکس ہے، ایم کیو ایم کلی طور پر قومی دھارے میں شامل ہے، قومی صوبائی بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیتی ہے، پارلیمان میں روزمرہ کی قانون سازی ہو یا آئینی ترامیم ایم کیوایم اور اس کے ارکان مکمل طور پر اس میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں، ملک میں قدرتی آفات سیلاب زلزلے کی صورت ہوں ایم کیوایم عوام الناس کی مدد کے لئے بلا خوف و خطر موجود رہتی ہے۔

ڈاکٹر صاحب کے کالم کی ایک ایک سطر پر گرفت کی جاسکتی ہے، جواباً صفحات سیاہ کیے جاسکتے ہیں لیکن  ہم یہاں اختصار سے کام لیتے ہوئے اس تحریر کو سلیم احمد کے اس شعر پر اختتام کرتے ہیں:

شاید کوئی بندہ خدا آئے

صحرا میں اذان دے رہا ہوں

Standard

غیرجانب داری کا پائجامہ

معروف صحافی مظہر عباس گوکہ بڑے کہنہ مشق اور دیانتدار صحافی سمجھے جاتے ہیں لیکن روزنامہجنگ میں شائع ہونے والے اپنے کالم الطاف حسین کی مقبولیت ،داستان یا حقیقت۔۔۔ تحریر: مظہر عباس ، روزنامہ جنگ میں انہوں نے جس طرح حقائق مسخ کرنےکی کوشش کی ہے اس کی امید ان سے کم ازکم نہیں تھی۔ جو کچھ انہوں نے تحریر کیا ہے وہ  مقتدر قوتوں کا بیانیہ ہے اور ایک طویل عرصے سے، اس کے علاوہ کچھ نہیں۔  گوکہ اپنی عمومی شہرت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے اس کو غیر جانبداری کا ‘پائجامہ’ پہنانے کی کوشش بھی کی ہے لیکن یہ عیاں و بیاں ہے کہ پائجامہ ان کا نہیں۔ الطاف حسین کے خطابات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے اسے شعلہ بیانی قرار دیا، اگر حقائق بیان کرنا شعلہ بیانی ہے تو حقائق چھپانے کو معزز صحافی کس پیرایہ میں بیان کرنا چاہیں گے یہ ضرور قارئین کےعلم میں لایا جانا چاہیئے تھا اور بحیثیت ایک دیانتدار صحافی کے انھیں اس شعلہ بیانی کے سیاق وسباق بھی بیان کرنے چاہیئے تھے۔  جہاں تک پارٹی رہنماؤں کو دفاع کرنے میں مشکلات پیش آنے کی بات ہے تو یہ رہنماؤں کی اپنی قابلیت پر منحصر ہے لیکن یہ جملہ لکھ کر انہوں نے پارٹی اور الطاف حسین کو دو الگ حیثیت سے ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے، اس کے جواب میں ہم صرف یہی کہ سکتے ہیں ‘غزالاں تم تو واقف ہو’۔  ایم کیوایم کی انتخابی حمایت اور اس کی کمی زیادتی کاذکر کرتے ہوئے انہوں نے یہ کہہ کر کہ بعض لوگوں کا خیال ہے بڑی زبردست ڈنڈی ماری وہ یہ کہ دوہزار دو میں یہ اپنی  انتہائی نچلی سطح پر آگئی ، اور یہ کہ ’متحدہ مجلس عمل کی حمایت میں امریکا مخالف لہر’۔ موصوف کو بخوبی معلوم ہے کہ متحدہ مجلس عمل کن مقاصد کے لئے تشکیل دی گئی تھی اور کون لوگ اور کون کون سے ممالک مُلاؤں کو حکومت میں لاکر کیا کام لینا چاہ رہے تھے اور کن کن حربوں دھمکیوں اور انتخابی بے ضابطگیوں کے ذریعے سے اور دباؤ ڈال کر ایم کیو ایم سے نشستیں ہتھیائی گئی تھیں لیکن ظاہر ہے اس کا بیان تجزیہ کے مقاصد سے لگّا نہیں کھاتا تھا اس لئے گول کردیا گیا یہاں تک یہ حقیقت بھی قلم کی زد سے باہر رہ گئی کہ جب ایم کیو ایم نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا تو پولنگ اسٹیشنوں پر الو بول رہے تھے جبکہ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے بائیکاٹ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس بائیکاٹ کا پولنگ ٹرن آؤٹ پر کیا اثر ہوا تھا۔ عمران خان کی تحریک انصاف کے آٹھ لاکھ ووٹوں کا ذکر کرتے ہوئے اگر فاضل تجزیہ نگار مختلف اوقات میں کراچی میں آزاد حیثیت میں انتخاب میں حصہ لینے والوں کے مجموعی ووٹوں پر بھی ایک نظر ڈال لیتے تو بات کچھ واضح ہوجاتی کہ کسی ایسی جماعت کے، جس کو مقتدر حلقوں، ہر درجے کے بھانڈ میراثیوں، ٹکے ٹکے میں بکنے والے صحافیوں، ٹی وی چینلز کے مالکان کی سرپرستی واعانت حاصل ہو، بے حساب ملکی و غیرملکی سرمایہ کی مدد سے آٹھ لاکھ ووٹ حاصل کرنے کی کیا حیثیت ہے۔ جنرل ورکر اجلاس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے الطاف حسین کی پریشانی کا ذکر کیا،  اگر ہم اس کو پریشانی کے بجائے غم و غصہ سے تعبیر کریں تو کیا غلط ہوگا، الطاف بھائی کا غصہ حق بجانب تھا ایم کیو ایم ایک ایسی تنظیم ہے جس سے مسلسل محنت، اپنے اردگرد کے سیاسی ماحول کا ادراک رکھنے، اپنے انتخابی حلقوں کی صورتحال سے ہمہ وقت آگاہ رہنے کی توقع کی جاتی ہے، اس لئے تنظیم کی جانب سے کیا جانے والا تساہل ہرحال میں قابل مواخذہ تھا اور ہے، ایم کیو ایم کے لوگ بخوبی واقف ہیں کہ الطاف بھائی کا کسی کارکن کو کوئی سزا دینا کوئی نئی بات نہیں ہے غلطیوں پر سزا ملتی ہے تو پھر اسی کارکن کی دلداری بھی الطاف بھائی ہی کرتے ہیں اور اس غم وغصے کا شکار صرف الطاف حسین ہی نہیں بلکہ ہر وہ کارکن اور ہمدرد بھی تھا جو ایم کیوایم سے اس کا انتخابی ریکارڈ پہتربنانے کی توقع کررہا تھا یا جس نے عہدیداروں کے تساہل یا غفلت کا مظاہرہ دیکھا تھا اور انھیں ذمہ دار سمجھتا تھا۔ محترم تجزیہ نگار کچھ رہنماؤں کا بھی ذکر کربیٹھے ہیں جو بیرون ممالک مقیم ہیں جس کے متعلق ہمیں پورا یقین ہے کہ وہ اصل صورت حال سے بخوبی واقف ہیں اور ان کا یہ بیان صرف ایک مخصوص طبقے کو گمراہ کرنے کے لئے ہی ہے۔  جہاں تک گورنر عشرت العباد کا تعلق ہے تو ہم اس ضمن میں اتنا ہی عرض کرنا چاہیں گے کہ کیسا ہی صاف پانی کیوں نہ ہو ایک جگہ پڑے پڑے اس میں کثافتیں شامل ہو ہی جاتی ہیں۔ آخر میں محترم فرماتے ہیں کہ ایم کیوایم نے اپنے خلاف آپریشنز کا فائدہ اٹھایا ہے، ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی، حضور! ایم کیو ایم کو نہیں پورے ملک اور قوم کو ایم کیو ایم کے خلاف ہونے والے آپریشنز کا نقصان ہوا ہے، اگر مسلسل آپریشنز نہ ہوتے تو ایم کیو ایم پورے ملک میں پھیل چکی ہوتی اور بڑے بڑے سیاسی بت پاش پاش ہوجاتے اور یہ ملک ایک حقیقی جمہوری فلاحی مملکت بننے کی راہ پر گامزن ہوگیا ہوتا۔

ایک گزارش ایم کیوایم کے مداحوں اور کارکنوں سے بھی کرتے چلیں کہ کوئی بھی کالم کوئی بھی تجزیہ پڑھتے وقت بین السطور ضرور پڑھنے کی کوشش کریں اور اس کے مقاصد سے کماحقہ آگہی کے بعد ہی اس کو آگے بڑھائیں۔

Standard

ملالہ کا ملال

  • ملالہ کو ملنے والا نوبل پرائز یہود و ہنود کی مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف ایک ایسی سازش ہے جس کا مقصد عالم اسلام کے اتحاد و اخوت کو پارہ پارہ کرکے اسے ہندوؤں کے زیر تسلط لایا جانا ہے۔ یہ سازش کوئی آج کی تیار کردہ نہیں اس کے تانے بانے برسوں پہلے مغرب میں بُنے گئے جب ایک پولش جوڑا سماجی کارکنان کے بہروپ میں سوات آیا اور جاتے وقت اپنی بیٹی کو ملالہ کے باپ کے پاس چھوڑ گیا۔ اس کاثبوت نہ صرف ملالہ کی مغرب میں پذیرائی سے ملتا ہے بلکہ ایک پاکستانی ڈاکٹر کے ملالہ کے کان کے میل کے ذریعے اس کے ڈی این اے کی تحقیقات سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ ملالہ ایک پولش خاندان سے تعلق رکھتی ہے اور قارئین پولینڈ اور یہود کے آپسی تعلقات کے تاریخی حوالوں سے بخوبی واقف ہیں۔ سوات میں قیام کے دوران ملالہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف تعلیمی سہولتوں کی عدم فراہمی کی آڑ میں زہر اگلتی رہی اور مغرب نے اس کی اس طرح پذیرائی کی کہ ایک اہم برطانوی نشریاتی ادارے نے ملالہ کے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اگلے گئے زہر کی نشرو اشاعت کی ذمہ داری قبول کی۔ یوں اس سازش کا پہلا مرحلہ مکمل ہوا۔ جب مسلمانوں اسلام اور پاکستان کے خلاف یہ چیرہ دستیاں ناقابل برداشت اور گمراہ کن ثابت ہونے لگیں تو علاقے کے بہادر، جرات مند اور راسخ العقیدہ مسلمانوں نے اس کا سدباب کرنے کی کوشش کی اور ملالہ اور اس کے حواریوں کو اپنی مذموم حرکتوں سے باز آنے کی ہدایت کی لیکن ان کی یہ مخلصانہ نصیحت صدا بصحرا ثابت ہوئی لیکن اس بات کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہوئے ان سازشیوں نے اپنی سازش کے دوسرے مرحلے کا آغاز کر دیا۔  اس سلسلے میں ایک ڈرامہ رچایا گیا جس میں ملالہ کو سازشوں کے گڑھ اس کے اسکول سے واپسی پر بلیک واٹر کے کارندوں نے نقلی گولی کا نشانہ بنایا جس کا ثبوت پاکستان کی اہم اسلامی جماعت کے امیر کے اس بیان سے بھی ملتا ہے جس میں انہوں نے فرمایا ہے کہ یہ بلیک واٹر کے کارندوں کی کارروائی ہے۔ نقلی فائرنگ کے ڈرامے کو آگے بڑھاتے ہوئے ملالہ کو فوجی ہسپتال منتقل کیا جاتا ہے جہاں پاکستان کی فوج اپنی حب الوطنی کا بہترین مظاہرہ کرتے ہوئے اس ڈرامے کا حصہ بننے سے صاف انکار دیتی ہے جس پر مایوسی کی انتہا میں اسے برطانیہ کے ہسپتال منتقل کیا جاتا ہے۔ اس سارے ڈرامے کی حقیقت اس سے بھی واضح ہوتی ہے کہ ایک بار جب ملالہ کو زخمی حالت میں دکھایا گیا تو تصویر میں اس کے سر پر بائیں طرف پٹی بندھی نظر آتی ہے جبکہ ایک دوسری تصویر میں یہ پٹی دائیں طرف نظر آرہی ہے۔ اس سازش کی حقیقت اس بات سے بھی عیاں ہوتی ہے کہ تمام دنیا کے نشریاتی ادارے اس ڈرامےکی باقاعدہ نشرو اشاعت میں شریک تھے، ہسپتال انتظامیہ ملالہ کی صحت سے متعلق باقاعدہ خبریں جاری کرتی رہی جیسے وہ کسی ملک کی صدر یا وزیراعظم ہو۔ اس دوسرے مرحلے میں ہسپتال سے نکلنے کے بعد ملالہ کو ساری دنیا میں اہم سماجی تنظیموں کی طرف سے  دورے کرائے جاتے ہیں اور انعامات دیے جاتے ہیں حالانکہ اس نے ایسا کوئی کام نہیں کیا جو اسے یہ ایوارڈ دیے جاتے لیکن ظاہر ہے کہ یہ ایک جاری بین الاقوامی سازش ہے۔ اس سازش کے تانے بانے اس مہارت سے بنے گئے ہیں کہ دنیا میں موجود پاکستان کے دوست ممالک چاہتے ہوئے بھی اسے بے نقاب کرنے کے لئے آگے نہیں بڑھ سکے۔
  • ان سب کاموں کے بعد اس سازش کا ایک اور مرحلہ شروع ہوتا ہے وہ ہے ملالہ کو ایک بھارتی ہندو کے ساتھ مشترکہ طور پر امن کا نوبل انعام دینا۔ اس مرحلہ کی ابتدا میں نوبل انعام کے اعلان کے بعد ملالہ کے مختلف قسم کے بیان آنے شروع ہوئے ہیں جس میں سب سے اہم بیان تھا کہ وہ ایک سیاست داں بننا چاہتی ہے۔ ایک دوسرے بیان میں وہ بھارتی وزیراعظم اور پاکستانی وزیر اعظم کو مشترکہ طور پر نوبل انعام کی تقریب میں شرکت کی دعوت دیتی ہے۔ جب ہم دونوں بیانات کا بنظر غائر جائزہ لیتے ہیں تو واضح ہوجاتا ہے کہ سازش کس سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔
  • سازش کا اگلا مرحلہ یہ ہوگا کہ مغربی طاقتیں ملالہ کو پورے اہتمام کے ساتھ بطور سیاست داں پاکستان لائیں گی بین الاقوامی اور پاکستانی میڈیا کے ذریعے اس کی تشہیر کی جائے گی اور محب وطن پاکستانی عوام کی خواہشات کے برعکس لوگوں کو گمراہ کر کے اور دھاندلی کے ذریعے زمام اقتدار اسے سونپ دیا جائے گا۔ اقتدار کے حصول کے بعد اس کا اہم کام یہ ہوگا کہ پاکستان اور اس کے ازلی دشمن بھارت کے درمیان ایک کنفیڈریشن قائم کی جائے، ایک بار اس کام کے پایہ تکمیل تک پہنچنے پر پاکستان کی فوج پر اپنی قوت و طاقت میں ایک مخصوص حد تک کمی کرنے کے لئے دباؤ ڈالا جائیگا اور جوں ہی یہ سنگ میل سر ہوا تو اگلا قدم پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو قبضہ کرنے کا ہوگا جو اس ساری سازش کا بنیادی مقصد ہے تاکہ اسلامی دنیا میں کوئی ایسا ملک نہ ہو جو نہ صرف ایٹمی ہتھیاروں کا مالک ہو بلکہ ان کے استعمال کی مہارت اور شجاعت سے اس کا سینہ آراستہ ہو۔
  • اب ضرورت اس امر کی ہے کہ عالم اسلام اور خصوصاً پاکستانی افواج اس سازش کو سمجھ کر اس کی بیخ کنی کے لئے اقدامات کریں اور حکومت کی باگ ڈور صالح اور متقی حکمرانوں کے ہاتھ سونپ کر ملکی سرحدوں کو ایسا محفوظ بنادیں کہ رہتی دنیا تک کوئی اسلام کے اس قلعے کی طرف بری نظر سے دیکھنے کی ہمت نہ کرسکے۔

واضح رہے کہ مصنف کا اوریا مقبول جان اور اس جیسے جید مفکروں سے کوئی تعلق نہیں خیالات میں کوئی بھی مطابقت آپ کے اپنے ذہن کی پیداوار تو ہوسکتی ہے مصنف کا اس قبیح حرکت سے کوئی تعلق نہیں۔

Standard

چھّکوُں کا کپتان

چھّکوُں کا کپتان یا کپتان کا چھّکا

بات حق ہے کہ خدا کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں اور یہ بھی سچ کہ شعبدہ بازی کی سیاست زیادہ دیر نہیں چلتی، مگر صاحب شعبدہ بازی سی شعبدہ بازی بلکہ رائج الوقت محاورہ کے مطابق شعبدہ گیری۔

 جی! الفاظ کی شعبدہ گیری، بازی گری

کب تحریک انصاف نے مطالبہ کیا لوڈ شیڈنگ میں کمی کا جسے مان لیا گیا، یا کوئی اور عوامی مطالبہ کپتان خان یا ان کی جماعت کے کسی ذمہ دار کی زبان سے الفاظ کی صورت ادا ہوا؟ پٹرول ڈیزل تو چھوڑیں کبھی آٹے کی قیمت پر ہی کوئی دھرنا دیا؟ کبھی نہیں۔ عوام کا مطالبہ کیا ہے، اس کی صعوبتوں میں کمی، مگر یہاں، دھاندلی وردِ زباں۔

اپوزیشن یہ ہرگز نہیں اور ہو بھی کیسے سکتی ہے کہ آئے بھی وہ گئے بھی وہ ختم فسانہ ہو گیا، جی! پارلیمان کی بات ہے، جہاں تیاری کرنے کے بعد پہنچا جاتا ہے اور حکومت کو اعداد و شمار، ثبوت و شواہد کے ذریعے مطعون اور راستی پر مجبور کیا جاتا ہے۔ بھاٹی گیٹ کی تقریروں اور بڑھکوں کا مقام مگر یہ نہیں۔ اس عمر میں اتنی کاوش مگر ممکن بھی نہیں جبکہ دلچسپیاں اور بھی ہوں ساتھ کم عمر بھی۔

سیاست کل وقتی کام ہے یہاں جز کا حاصل نہیں۔

وگرنہ گوجر نالے کے آصف کا ہزیان بھی قوم کے لئےمنارہ نورہو۔

پھر ترجمانی اور کِسے کہیئے اور کیوں، جب حمایت میں حد سے تجاوز، درہمے قلمے سخنے، اور کپتان کے مخالفین کی مذمت الامان، کہ سم آلود خنجر بھی زباں کے آگے سرنگوں اور شرم سار ہوں۔ کیا اور سند اور کون سا تصدیق نامہ درکار ہے؟

إن كنت لا تعلم فتلك مصيبة وإن كنت تعلم انک تعلم وانت لا تعلم فالمصيبة أعظم

نہ جاننا مصیبت ہے اور نہ جانتے ہو ئے سمجھنا کہ علم ہے بڑی مصیبت ہے

راہنمائی، ژرف نگاہی، پیش بینی! ملک و قوم کی ضرورت اورکیا تھی؟  

اصرار مگر جس شخص پر رہا، اس کی جھولی میں تھا کیا، اتاؤلا پن، بے صبری، تھڑ دلی؟ زور کس پہ تھا دیانت داری پر، مگر کیا دیانت داری صرف زر سے عبارت ہے؟ اخلاق باختگی کوئی اہمیت نہیں رکھتی؟ نہ سمت کا تعین نہ مقصد کی پہچان۔ ایک خلقت کو سراب کی طرف ہانک دیا گیا، بقول شیخ رشید ٹرک کی بتّی کے پیچھے لگا دیا گیا۔ اعتراف اب کیسا اور کیوں؟ صدقہ جاریہ کی ضد اگر ہو تو کیا ہواور پھر سزا؟؟

پہاڑ سی غلطیاں اور کپتان، پارٹی فین کلب، تجربہ کیا؟ کس برتے پر ملک کی باگ ڈور سنبھالنے چلے تھے، ایک صوبہ میں حکومت مگر انتشار و افتراق سے عبارت، ترقئ معکوس سے مزیّن، اگر امریکی مدد شامل حال نہ ہو تو۔ اور ہر کام کے لئے نوّے دن کا وعدہ، اور وہ وعدہ ہی کیا ۔ ۔ ۔  کیا انھیں انتخابی نعرہ ہی سمجھا جاتا مثل دیگرے، کیا فرق رہتا ہے پھر،  کیا ضروری تھا ایک اور جماعت کا اضافہ۔ ریموٹ کنٹرول سے کیا حکومتیں چلتی ہیں، مستزاد یہ کہ دعویٰ پر دعویٰ۔ حلیف باہر کیے گئے، پھر ہم خیالوں نے وقت ڈال دیا، پھر مشیر پھر وزیر۔ یہ سیاست کرکٹ نہیں اس کے لئے شیشہ گری کا قرینہ درکار ہے۔ 

 الوحدہ خیر من جلیس السؤ او

 بری صحبت سے تنہائی بہتر! مشیروں پر الزام کیوں، کسی نے مجبور کیا تھا مشیران کے انتخاب پر؟ خلق کا نعرہ مگر کچھ اور ہے اور اشارہ نہیں ببانگ دہل کہ پارٹی کھڑی گر ہوئی تو سپہ سالار کے بل پہ اور آشکار بھی ہے کہ پت جھڑ کی طرح ہر نوع اور ہر قسم کا آدمی جماعت میں شامل کیا گیا، لالچ، وعدے، دھمکیاں اور جو ان کا آزمودہ وطیرہ رہا ہے۔ نتائج و عواقب سے صرف نظر کرتے ہوئے، کہ سامنے ہیں۔

آدمی کو اپنے لفظ کی حرمت کا پاس رکھنا چاہیئے

 قسم بااللہ! تھوک کے چاٹنا اس سے بہتر ہے کہ آدمی اپنے الفاظ سے مُکر جائے، اپنی بات پر قائم نہ رہ سکے،عدلیہ کے مقدمہ میں دیکھ لیا گیا۔ کہا گیا، اعلیٰ عدلیہ پر الزام نہیں، آج وہی سرپنچ، ملزم بلکہ مجرم ٹہرا، کل تک جس صحافتی ادارہ کے گن گائے گئے آج وہ غدار وطن، مگر کس کے کہنے پر؟ یہ تازہ واردات تھی کہ جس کا ذکر کیا گیا وگرنہ ان کہہ مُکرنیوں کی ایک داستان الف لیلہ ہے کہ ختم ہونے کا نام نہ لے، وائے بدنصیبی کہ آدمی کو زیاں کا احساس نہ ہو۔ اقبال یوں ہی تو نہ کہہ گئے تھے :

  وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا

کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

باغیوں کے ضمن میں تحریک انصاف کس سلوک کی روادار رہی ہے بچہ بھی واقف حال ہے، کوئی دن جاتا ہے کہ جاوید ہاشمی بھی رجم کا حقدار ٹہرے گا اگر بغاوت پر ثابت قدم رہا، ورنہ اس عاشقی میں عزت سادات تو جا چکی۔ سیاست کی حرکیات کو اس سے بہتر کون جانے گا اگر وہ وسط مدتی انتخاب کا مخالف ہے تو با وجوہ، کپتان کو نہ تو اس کا ادراک ہے نہ عواقب کی خبر کہ وہ اس میدان کا کھلاڑی نہیں اور نہ کبھی ہو سکے گا۔ جاہل کی جہالت اس کے لئے ضرر ہے مگر بہت سوں کے لئے فوائد کا منبع۔

اگر تمام انتخابی عمل، پارلیمان، الیکشن کمیشن، عدلیہ سب ہی مشکوک ٹہرے تو تقریر تو عرصہ دراز کی لکھی لکھائی موجود ہوتی ہی ہے۔

عزیز ہم وطنو!!

 

Standard

طالبان کا فنڈا

خوارج اسلامی تاریخ کا وہ ناقابل فراموش کردار ہے جس نے اپنے وجود کو آج تلک قائم رکھا ہوا ہے. باوجود اس کے کہ مختلف ادوار میں جنگی کارروائی کے ذریعے انہیں نیست و نابود کرنے کی کوشش گئی جو جسمانی طور پرکسی حد تک کامیابی سے ہمکنار بھی ہوئی لیکن فکری اور علمی طور پر ان کا سدباب کرنے کی کوئی سنجیدہ شعوری کوشش کبھی زیر غور نہیں لائی جاسکی نتیجتاً یہ فکر اور سوچ نہ صرف قائم رہی بلکہ اپنی بقا اور ترویج کے لئے نئے نئے طریقے نئے نئے نام اور نئے نئے منصوبے بھی اپناتی رہی ہے۔  لیکن جس طرح اپنے بنیادی فلسفہ سے مراجعت کا کوئی تصور ان میں آج تلک بھی نہیں پنپ سکا ہے اسی طرح وہ اپنے بنیادی اور مہلک ترین ہتھیار یعنی تکفیر سے بھی دست کش نہیں ہوئے۔ یعنی بنیادی سوچ بہر حال قائم و دائم رہی۔ دوسری جانب احادیث سے بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس فتنہ کا ظہور ہر دور میں ہوتا رہے گا یعنی یہ صرف وہی گروہ نہیں جو خلفاء کرام کے خلاف نکلا تھا بلکہ ان نظریات صفات و کردار کے حامل گروہ تا قیامت نکلتے رہیں گے اور مسلم امَہ کو جہاد کے نام پر اپنی دہشت گردانہ کارروائیوں کے زریعے نقصان پہنچاتے رہیں گے۔

عصری تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو خوارجی سوچ کا ظہور ہمیں مصر میں حسن البنا کی تحریک اخوان المسلمون سے ہوتا ہوا نظر آتا ہے جس کے بطن سے الجہازالسَری اور بعد ازاں القائدہ کا جنم ہوا۔ اسی سوچ کا پرتو ہمیں پاکستان میں جماعت اسلامی میں نظر آتا ہے البتہ یہ امر تحقیق طلب ہے کہ جماعت اسلامی کی نظریاتی اساس میں اس کی شمولیت مودودی صاحب کی اخوان المسلمون کے سیَد قطب سے قربت سے پہلے کی ہے یا بعد کی، گوقرائن تو یہ بتاتے ہیں کہ یہ چیز جماعت کے خمیر میں روز اول سے موجود تھی جو مودودی صاحب کے فرمودات میں صحابہ کرام پر اعتراضات، فقہائے عظام، مفسرین قرآن مبین، محدثین اور بزرگان دین کے یکسر رد کی صورت میں نظر آتی ہے۔

 فی زمانہ خوارج کا ظہور ہمیں طالبان کی صورت میں نظر آتا ہے، ان کی وحشت و بربریت اس انتہا کو پہنچ چکی ہے کہ لوگ ان کے مقابلے پر ہلاکو اور چنگیز خان کی مثالیں دینے سے کتراتے ہیں کہ موخر الزکر سے اپنے ہم وطنوں اور ہم مذہبوں پر اس قسم کے بہیمانہ ظلم و ستم کی کوئی روایت نہیں ملتی۔ مساجد، امام بارگاہ، مزارات اولیإ ، اسکول، فوجی تنصیبات، سرکاری عمارات غرض یہ کہ کونسا ایسا مقام ہے جو ان کی ہلاکت خیز کارروائیوں سے محفوظ رہ سکا ہے، خود کش حملوں جیسے بھیانک ومذموم افعال کے ذریعے معصوم و بیگناہ افراد کی ہلاکت کی گنجائش اسلام میں تو کجا دنیا کے کسی بھی اور مذہب میں نہیں مل سکتی، ظلم و بربریت کی یہ خونچکاں داستاں یہاں اختتام پذیر نہیں ہوتی بلکہ سماجی ابلاغی ذرائع پر ویڈیو جاری کی جاتی ہے جس میں مقتولین کے سروں کو تن سے جدا کرنے کے بعد ان کو پاؤں کی ٹھوکروں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کیا ان سب تجربات سے گزرنے کے بعد ہم دنیا میں اسلام کی تبلیغ و ترویج کا خواب بھی دیکھنے کے قابل رہ پائیں گے، یقیناً نہیں، اور یہی اس ساری وحشت و بربریت کا مقصد ہے کہ اسلام کی امن و آشتی کی تصویر دنیا کے سامنے پیش کرنے کے بجائے اسے ایک ظلم و بربریت کے حامل و داعی مذہب کے طور پر پیش کرکے دنیا میں اس کے پھیلنے کی راہیں مسدود کردی جائیں۔ یہاں ہم یہ ضرور باور کرانا چاہیں گے کہ اس خطہ میں صرف ہم ہی ان کی دہشت گردی کا شکار نہیں بلکہ جنوب مشرقی ایشیا کے کئی ممالک، ملائیشیا، انڈونیشیا اور بنگلہ دیش میں نہ صرف ان کی موجودگی واضح ہے بلکہ حتی المقدور اپنی جدال و قتال کی بہیمانہ کارروائیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔  

اس ضمن میں پاکستان اور تحریک پاکستان کی مخالف نام نہاد مزہبی جماعتوں کی اکثریت کا شرمناک کردارضرور توجہ طلب ہے جو ببانگ دہل طالبانی درندوں کے ہراول دستوں کا کردار ادا کر رہی ہیں اور معاشرتی سطح پر ہر اس آواز کی مخالفت میں کمر بستہ ہیں جو دہشت گردوں اور دہشت گردی کو للکارتی ہے۔ پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر دوسری قابل ذکر جماعت جو طالبان کی بے لاگ حمایت پر کمر بستہ ہے وہ پاکستان تحریک انصاف ہے، بظاہر تو یہ جماعت معروف معنیٰ میں پڑھے لکھے لوگوں کی جماعت کہلائی جاتی ہے اور اس کے ووٹروں اور حمایتیوں کی اکثریت کا تعلق پڑھے لکھے روشن خیال طبقے سے سمجھا جاتا تھا، یہ جماعت،معاشی  ناانصافی کی مخالفت کا نعرہ لیکر ضرور اٹھی لیکن طالبان درندوں کی حمایت میں اس جماعت نے جس طرح پاکستان کی اساس اور اس کے نظریات پر ضربیں لگائی ہیں اس نے عام آدمی کو تو ورطہ حیرت میں ڈالا ہی خود اس کے اپنے حامی بھی منہ چھپانے پر مجبور ہو گئے گوکہ اس میں اچنبھے کی ایسی کوئی بات نہیں کہ اس جماعت کی صفوں میں جماعت اسلامی کی حامیوں کی موجودگی سے پاکستان کی سیاست پر نظر رکھنے والا ہر شخص واقف ہے مگر اس جماعت میں موجود لبرلز، روشن خیال، پاکستان سے محبت کے دعویداروں کے لئے یقیناً یہ لمحہ فکریہ ضرور ہے۔

 

سیاسی منظر نامے میں واحد جماعت متحدہ قومی موومنٹ نظر آتی ہے جس نے طالبانی فتنے کی نہ صرف تمام تر شدَومد کے ساتھ مخا لفت کی ہے بلکہ اپنے اس موقف پر کسی طرح سمجھوتہ کرنے پر راضی ہوتی بھی نظر نہیں آتی۔ یہاں غور کرنے کا مقام یہ ہے کہ کیا یہ فرض صرف ایم کیو ایم کا ہے یا اس میں دیگر سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی، ذرائع ابلاغ، دانشوروں یہاں تک کہ عام آدمی کو بھی اپنا حصہ ڈالنا ضروری ہے۔ یاد رکھیے کہ آج اگر ہم نے اپنے اس فرض سے کوتاہی برتی تو ہماری آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔

وماعلینا اللبلاغ

 

Aside

روٹی تو کسی طور کما کھائے مچھندر

روٹی تو کسی طور کما کھائے مچھندر، شاہین صہبائی کا کالم ‘‘کیا کوئی تیسرا آپشن بھی ہے’’ پڑھ کر جو پہلا مصرع بے ساختہ ذہن میں آیا وہ یہی تھا، بزعم خود و بہ زور خود قسم کے اخباری دانشوروں کا اس عمر میں یہی حال ہوتا ہے کہ, پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں، یا عمر سے اتری اس طوائف کی طرح جو اپنے کوٹھے کے آگے سے تماشبینوں کو بے التفاتی سے گزرتا دیکھ کر گالیوں اور کوسنوں پر اتر آتی ہے، عین مین وہی دماغی کیفیت اس کالم سے آشکارہے ۔ ذرائع ابلاغ کی جدّت پذیری کے اس دور  میں اخبارات و رسائل کے قارئین کا ایک بڑا حصہ ٹیلی ویژن کو پیارا ہوا تو کچھ سماجی ابلاغ کے ذرائع کو منتقل ہوا، نتیجہ یہ ہوا کہ اخبارات و رسائل کی اشاعت میں کمی آنے سے بھرتی کے کالموں کا چھپنا بھی کم ہوگیا اور ظاہر ہے کہ یافت کے ذرائع پر بھی اس کا گہرا اثر ہوا۔ کچھ ایسا ہی احوال موصوف کا بھی نظر آتا ہے کہ حضور کے ممدوح اب نظرکرم کسی اور کی شوخئ ابلاغ کی جانب کیے بیٹھے ہیں اب اس درماندگی کی کیفیت کا مظہر موصوف کا کالم بھی نہ ہوتو حیف ایسی کالم نویسی پر، پھر تو ناخن ہی بیچے جائیں خریدار بھلے گنجے ہوں، انھیں کیا۔  پاکستان کی وہ کونسی سیاسی جماعت یا اس کا رہنما رہ گیا جسے ملّاحیاں سنانے سے حضرت چُوکے ہوں۔ ایک طرف حضرت کاخامہ شرر نوا آصف زرداری اور ان کی اولاد کے قصائد باطلہ کا بیان کرتا چلا تو دوسری جانب رائے ونڈ میں میاں صاحب کی صنّاعیوں پر غیض وغضب کے انگارے برساتا پلٹا تو فوج کو طالبان کے خلاف آپریشن شروع کرنے کے نتائج و عواقب سے ڈرانے اور دھمکانے پر جا ٹکا، فوج کی لشکر کشی کی صلاحیت پر بھی شبہ اور ساتھ یہ خوف بھی دلانا کہ حکومت تمھیں لڑوا کر خود پتلی گلی سے نکل لے گی اس طرح کی احمقانہ نصیحتوں سے مزین اس ‘چلتے چلتے’ چغدیت کی معراج پر پہنچ جانے والے کالم میں ٹیپ کا بند موصوف نے وہی رکھا یعنی متحدہ قومی موومنٹ اور اس کے قائد جناب الطاف حسین، کہ اس ذکر کے بغیر ,بکری نہیں ہوتی, پھر موصوف کی برش قلم اس ذکر پرطرَاری و مکَاری کے جو جواہر پارے بکھیرتی ہے وہ ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے حضرت کے نامہ اعمال کی طرح سیاہ آسمان پر چاند ماری کی کاوشیں، قلم بگٹٹ گھوڑے کی طرح یوں بھاگتا ہے کہ سوار اس کے پیروں تلے آکر جہنم رسید نہ بھی ہو تو ہوش و خرد اور زمان ومکاں کی تمیز سے کم از کم عاری ہو جاتا ہے اور وہی حال ہوتا ہے کہ بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ، کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔

 80 اور90 کی دہائیوں میں مہاجروں پرکچھ طریقے استعمال کرنے کا الزام لگاتے ہوئے موصوف بھول گئے کہ مہاجر ہمیشہ ہی پاکستان کے خلاف کی جانے والی سازشوں کے خلاف سینہ سپر رہے ہیں وہ ایوب خان کا دور ہو کہ بھٹوکا، مہاجروں نے تو، وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے، کے مصداق کبھی بھی ملکی سالمیت پہ آنچ آئی تو کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا اور دوسری طرف سازشیں کرنے والوں کا بھی یہی چلن رہا کہ سب سے پہلے مہاجروں کو دبانے اور توڑنے کی کوشش کی گئی۔ خوش قسمتی اس جماعت اور اس کے قائد کی کہ قائد اعظم کا پاکستان جب ختم ہوا تو سیاسی منظر نامہ پران کا وجود نہ تھا وگرنہ ساری ذمہ داری حمود الرحمٰن کمیشن سے کہہ کر انہی کے کھاتہ میں ڈال دی جاتی۔ زیرنظر کالم میں موصوف فرماتے ہیں کہ ‘‘الطاف بھائی نے خود کہدیا ہے کہ اگر وہ سامنے سے ہٹ گئے تو کراچی کی گلی گلی میں متحدہ کے لوگ آپس میں جنگیں کررہے ہونگے’’۔ اب اس بات کو لاف و گزاف کا نام نہ دیا جائے تو کیا کہا جائے، مگر ٹھہریے! کہیں ایسا تو نہیں کہ حضرت الطاف بھائی سے اپنی قربت کے اظہار کے دعوے میں اپنے کان میں کہی گئی بات منظر عام پہ لے آئے ہوں۔ بہرحال دروغ بر گردن کالم نویس ہم اس قرابت قریبہ کے بیچ کون۔ لیکن یہ ضرور عرض کریں گے کہ کچھ اس میں قصور ایم کیو ایم کا بھی لگتا  ہے، کہ وہ چپیڑ بھی منہ کے حساب سے رسید کرتے ہیں ورنہ تو طبع کی یہ جولانی کب کی ہوا ہوچکی ہوتی اور روسیاہی مزید گہری نظر آتی۔

ایک طرف موصوف فرماتے ہیں کہ الطاف بھائی نے سب سے پہلے طالبان کی بڑھتی ہوئی نفری اور طاقت کی خبر سنائی تھی، اور دوسری ہی سانس میں یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ عفریت اگر کراچی میں پھیلا ہے تو اس کی زمہ داری متحدہ کو ماننی پڑے گی۔ کیوں بھئی متحدہ کو کیوں ماننا پڑے گی ان کو کیوں نہیں جنھوں نے کراچی کو تاخت و تاراج کرنے کے لئے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اس عفریت کو یہاں لا کر بٹھایا، انھیں کیوں نہیں جنھوں نے اس عفریت کواپنے بچے قرار دیا، انھیں کیوں نہیں جو اس عفریت کو اپنی ڈیفینس لائن قرار دیتے نہیں تھکتے، انھیں کیوں نہیں جن کے گھروں سے اس عفریت کی ذریات برآمد ہوتی رہی ہیں اور انھیں کیوں نہیں جو اس عفریت کے ظلم و غارت گری کی آج بھی تاویلیں کرتے مرے جارہے ہیں جبکہ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ متحدہ ہی وہ واحد جماعت تھی جس نے پناہ گزینوں کے بھیس میں آنے والے طالبان کے خدشہ کی نشان دہی کی تھی اور حسب روایت الزامات اور طعن ودشنام کا سامنا کیا تھا۔ ویسے متحدہ کو صہبائی صاحب کی محبت کا شکرگزار ہونا چاہیئے کہ انہوں نے صرف کراچی کی ذمہ داری ان پر ڈالی وگرنہ فاٹا، پختون خواہ اور بلوچستان بھی انہی کے کھاتے میں آ رہے تھے، خیر پھر کبھی سہی ، یار زنده صحبت باقی ۔ فرماتے ہیں، ہونا تویہ چاہیئے تھا کہ متحدہ جیسی قوت باقی سیاسی قوتوں کے ساتھ مل کر دہشت گردی کو روکنے میں صف اول میں ہوتی۔ اب اس صحافتی بلاد کار پر کوئی سر نہ پیٹے (کالم کار کا) تو کیا کرے، اس وقت پورے ملک میں متحدہ قومی موومنٹ اوّل و واحد جماعت ہے جو طالبانی فتنے کے آگے دیوار بنی کھڑی ہے، آگے پیچھے دائیں بائیں متحدہ ہی ہے اور دور دور تلک کسی کی موجودگی کے آثار تک ظاہر نہیں۔ ایوان نمائندگان سے عوامی حلقوں تک، ایم کیو ایم نے اپنے موقف کا دوٹوک اظہار کیا ہے جبکہ حکومت وقت طالبان کی ناز برداری میں مشغول ہے اور حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت ہونے کے دعویدار سندھ کی ثقافت کے نام پر رقص و موسیقی کی محفلوں میں گم ہیں اور دوسری طرف متحدہ کو کچلنے کا پروگرام بھی حکومتی سرپرستی میں پورے زور و شور سے جاری ہے۔ آئے روز بے گناہوں کی گرفتاریاں، ماورائے عدالت قتل، قانون نافز کرنے والوں کے ہاتھ کارکنان کی گمشدگی، معمول بنا ہوا ہے اس صورت حال میں متحدہ کی کیفیت دل کو روؤں کہ جگر کو پیٹوں سے مختلف نہیں مگر ‘‘صہبائی’’ کالم کار کی بینائی ان حقائق کے ادراک سے قاصر رہی، لہزا فتویٰ صادر کردیا گیا، اور پھرمتحدہ کو مطعون کرنا ان جیسے ‘‘ڈریکٹ حوالداروں’’ کا ایک ایسا کھیل ہے جس میں کسی قاعدے قانون کی کوئی گنجائش نہیں، مگر سچائی کو ظہور کے لئے کسی کالم کارکی ضرورت بھی کبھی نہیں رہی لیکن صحافت کو زن بازاری بنانے پر ضرورایک روز صحافت خود ہی سوال اٹھائے گی۔

Standard